مغل شہزادی کا مقبرہ جس سے بہت کم لوگ واقف ہیں

موڑ سمن آباد پر واقع اس عمارت کے بارے میں بہت کم لوگ واقف ہیں۔
دکانوں کے عقب میں برصغیر کے عروج و زوال کی داستاں سناتا یہ مقبرہ مشہور مغل بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر کی سب سے بڑی اور چہیتی بیٹی زیب النساء کا ہے۔
زیب النساء وہی شہزادی تھیں جس نے لاہور کے مضافات میں ایک بڑا باغ تعمیر کروایا تھا۔ اس باغ کا داخلی دروازہ آ ج بھی چوبرجی کی صورت میں موجود ہے۔
یہ مقبرہ بہت عرصہ تک تو آوارہ کتوں اور بھنگیوں کی آماجگاہ رہا تاہم کچھ عرصہ قبل ہی اسے کسی حد تک بحال کردیا گیا ہے۔ تاہم مقبرے کی اصل شان و شوکت اب دفن ہوچکی ہے۔
تاریخ دان بتاتے ہیں کہ اس مقبرے کو 1669 ء میں ایک خوبصورت باغ کے بیچ تعمیر کیا گیاتھا۔ مقبرہ قیمتی پتھروں سے سجایا گیا تھا۔
مرصع نگینے اس شہزادی کی لوح پر مرقوم تھے، مگر مغلوں کے زوال کے ساتھ ہی یہ مقبرہ بھی تباہ حالی کا شکار ہوگیا۔
رنجیت سنگھ کے دور میں اس مقبرے سے تمام آرائشی سامان اور قیمتی نوادرات اکھاڑ لیے گئے تھے۔
مربع گنبد ، بیرونی طور پر گھماؤ پھراؤ اور اندرونی طور پر ہیمسفریکل طرز کا ایک منفرد گنبد، کسی اہرام کی مانند یہ مقبرہ لاہور میں اپنی مثال آپ ہے۔
مربع مقبرے کا ہر چہرہ ایک محراب پر مشتمل ہے۔ نسبتاً کم اونچائی والے دروازے ہیں ۔ جس کے ذریعے اندرونی خیمہ دکھائی دیتا ہے۔
مقبرے کی عمارت ایک اونچے اینٹوں کے پلیٹ فارم پر تعمیر کی گئی ہے۔ سفید اور سیاہ ماربل اور سنگِ بادل کے اصل فرش کا ایک حصہ ابھی باقی ہے۔
فرش کے موجودہ پیچ شاہدرہ میں جہانگیر کے مقبرے میں برآمدہ سے ملتے جلتے ہیں۔
آج مقبرہ کی عمارت محض ایک خول ہے۔ تاہم اس مقبرے کی بناوٹ آج بھی اس عمارت کے پراشکوہ ماضی کی داستاں سناتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ لاہور کے اس تاریخی ورثے کو نا صرف محفوظ رکھا جائے بلکہ اس کو اصل حالت میں بحال بھی کیا جائے۔

Read Previous

مچھلی منڈی منتقل کرنے کا فیصلہ

Read Next

محرم الحرام کے انتظامات کے لیے 20کروڑ خرچ کیے جائیں گے

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے