کورونا کی تیسری لہر، پنجاب حکومت نے نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا

وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انڈسٹری، کنسٹرکشن، گڈز ٹرانسپورٹ میں معمول کے مطابق کام ہوگا، یکم سے 12 فیصد شرح والے شہروں میں مؤثر لاک ڈاؤن ہوگا، شادی  کےاجتماعات ، ان ڈور ،آؤٹ ڈور تقریبات ، سیاسی، سماجی، ثقافتی اور کھیلوں کی سرگرمیوں پر بندش ہوگی، میٹرو اور اورنج ٹرین نہیں چلے گی، دکانیں شام چھ بجے بند ہوں گی، ہفتے میں دو دن کاروبار نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں۔  https://lahoretoday.pk/third-wave-of-corona/

کرونا کی تیسری لہر میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لاہور میں کرونا کے مثبت کیسز کی شرح21% ہے۔  جس کے پیش نظر پنجاب حکومت نے نئے اقدامات کے لئے آج کابینہ کا اجلاس ہوا۔اجلاس کے بعد وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہا کہ کرونا کی تیسری لہر پہلے کی نسبت زیادہ خطرناک ہے۔ کرونا کے مثبت کیسز کی شرح  21٪ ہے۔کرونا میں اضافے کے باعث ہسپتال بہت تیزی سے بھر رہے ہیں اور ہیلتھ سسٹم دباؤ کا شکار ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ اس مرحلہ پر کورونا کو روکنا بہت ضروری ہے کیونکہ ہم صنعتیں اور  کاروبار بند کرنے کے متحمل بھی نہیں ہو سکتے اور بندشوں کے حق میں بھی نہیں ہیں مگر عوام کے تعاون کے بغیر کرونا کو روکنا ممکن بھی نہیں ہے۔وزیراعلی پنجاب نے نئی بندشوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم معاشی سرگرمیوں پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں لگا رہے۔انڈسٹریز کنسٹرکشن انڈسٹریز اور ٹرانسپورٹ کمپنیز ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے اپنے معمول کے مطابق اپنا کام جاری رکھیں گی۔ایسے اضلع جہاں کرونا کے مثبت کیسز کی شرح 12٪ سے زائد ہیں وہاں  یکم اپریل سے دو ہفتوں کے لیے سمارٹ لاک ڈاؤن ہوگا۔ شادی بیاہ کی تمام تقاریب پر یکم اپریل سے مکمل پابندی ہوگی۔شادی ہال بند رہیں گے    انڈور اور آؤٹ ڈور کسی قسم کی تقریبات کی اجازت نہ ہوگی  میٹرو سپیڈو اور اورنج لائن ٹرین یکم اپریل سے بند ہوگی۔ ریسٹورنٹس میں انڈور اور آؤٹ ڈور ڈائننگ پر پابندی ہوگی۔ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری کی سروس کی اجازت ہوگی۔اسپورٹس اور ہر قسم کی کلچرل ایکٹیویٹی پر پابندی ہوگی۔تمام دکانیں اور بازار شام 6 بجے تک کھلے رہیں گے اور ہفتے میں دو دن کاروبار بند رہے گا۔پارک بند رکھے جائیں گے۔وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ اگر ایس او پیز  پر عمل نہ کیا گیا تو خدانخواستہ صورتحال اور بگڑ سکتی ہے۔اسی لیے سو فیصد پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا اور ماسک کا استعمال یقینی بنایا جائے گا۔

Read Previous

اندرون لاہور دی پہچان کبوتراں دے پنجرے

Read Next

کرونا کی تیسری لہر مزید سنگین، بچے بھی متاثر

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے